سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) — سپریم کورٹ آف پاکستان نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں نظرثانی درخواستیں منظور کرتے ہوئے 12 جولائی 2023ء کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے، اور پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ سات رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے کے تحت مخصوص نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں کو الاٹ کی جائیں گی۔

امریکی وزیر دفاع: ایران میں ایٹمی تنصیبات پر حملے کامیاب، جنگ بندی ممکن ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر نے جزوی طور پر نظرثانی کی درخواستیں منظور کیں۔ واضح رہے کہ اس فیصلے کے تحت پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستوں کی حقدار نہیں رہی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر ان منحرف ارکان نے مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم) میں شمولیت اختیار کی ہوتی تو یہ مسئلہ نہ آتا، کیونکہ ایم ڈبلیو ایم کی ایک نشست موجود تھی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے تبصرہ کیا کہ کاش ان لوگوں نے مشورہ کیا ہوتا۔

پی ٹی آئی رہنما کنول شوزب نے روسٹرم پر آ کر وضاحت دی کہ 24 دسمبر 2023 کو پارٹی کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس لیے وہ سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوئیں۔ اس پر جسٹس امین الدین نے استفسار کیا کہ پی ٹی آئی میں واپس کیوں نہیں گئیں؟

عدالت نے سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا اور مختصر حکم نامہ جاری کر دیا۔ جسٹس صلاح الدین پنہور نے حامد خان کی جانب سے اعتراضات پر خود کو بینچ سے الگ کر لیا، جس پر عدالت نے سخت ریمارکس بھی دیے۔

جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے اس کیس میں اپنے اختیارات کو غیر معمولی طور پر استعمال کیا، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو آج کے حالات پیش نہ آتے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں پر کبھی دعویٰ نہیں کیا تھا، نہ ہی الیکشن کمیشن یا کسی عدالت میں اس کا ذکر کیا۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “سپریم کورٹ نے مخصوص نشستوں سے متعلق 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!