برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کی شورائے نگہبان نے پارلیمنٹ کی جانب سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ یہ بل اس وقت تک اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے سے تعاون روکنے کا حکم دیتا ہے جب تک ایران کی جوہری تنصیبات کی سلامتی کی مکمل ضمانت فراہم نہ کی جائے۔
آیت اللہ خامنہ ای کا قوم سے خطاب امریکا پر فتح کا اعلان اسرائیل کو بچانے میں ناکامی کا دعویٰ
ایران کی پارلیمنٹ نے گزشتہ روز یہ بل بھاری اکثریت سے منظور کیا تھا۔ خبر رساں ادارے مہر کے مطابق 221 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا، مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں آیا جبکہ صرف ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بل کی منظوری کے بعد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایرانی جوہری تنصیبات میں داخلے کی اجازت معطل رہے گی۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’’ایران اپنے سویلین نیوکلیئر پروگرام میں تیزی لائے گا اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘‘
شورائے نگہبان، جو علما اور ماہرین قانون پر مشتمل ادارہ ہے، ملک میں تمام قانون سازی کا آئینی و شرعی جائزہ لینے کا مجاز ہے اور اس کے بعد ہی قانون کا نفاذ ممکن ہوتا ہے۔
