پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کے نیشنل سیسمک مانیٹرنگ سینٹر (این ایس ایم سی) اسلام آباد کی جانب سے کراچی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں حالیہ زلزلے کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق یکم جون 2025 سے اب تک شہر میں 57 ہلکے نوعیت کے زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں جن کی شدت ریکٹر اسکیل پر 1.5 سے 3.8 کے درمیان رہی۔ یہ زلزلے لانڈھی فالٹ لائن کے فعال ہونے کی وجہ سے رونما ہوئے، جو خطے میں قدرتی ٹیکٹونک تناؤ کے اخراج کی علامت ہیں۔
بلال کالونی پولیس کی بڑی کارروائی: موٹر سائیکل چھیننے والا گینگ گرفتار، اہم انکشافات
محکمہ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زلزلے عمومی نوعیت کے ہیں اور ان کی وجہ سے کسی بڑے زلزلے کا فی الحال کوئی خطرہ موجود نہیں۔ زیادہ تر جھٹکے سطح کے قریب، 70 کلومیٹر یا اس سے کم گہرائی میں آئے، جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں میں رہائشیوں نے انہیں ہلکی شدت کے ساتھ محسوس کیا۔
پی ایم ڈی حکام نے بتایا کہ کراچی کی جغرافیائی پوزیشن، جو ہندوستانی اور یوریشین پلیٹوں کے سنگم کے قریب واقع ہے، معمولی نوعیت کی ٹیکٹونک حرکات کا باعث بن سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی عوامل جیسے نرم مٹی، زمین کی بحالی اور زیر زمین پانی کے بے جا استعمال کی وجہ سے زلزلے کی شدت کا سطح پر مختلف انداز میں احساس ہوتا ہے۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں اور صرف پی ایم ڈی کے سرکاری ذرائع سے حاصل شدہ معلومات پر بھروسہ کریں۔ غیر سائنسی پیش گوئیوں یا افواہوں پر دھیان نہ دیں اور ان کی اشاعت سے گریز کریں تاکہ بے جا خوف و ہراس پیدا نہ ہو۔
