ایران نے این پی ٹی معاہدے سے وابستگی کا اعادہ امریکی حملوں پر بھرپور جواب دینے کا اعلان

ایرانی نائب وزیر خارجہ مجید تخت‌ روانچی نے کہا ہے کہ ایران اقوامِ متحدہ کے جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کا پابند رکن رہے گا اور پرامن مقاصد کے لیے یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی توانائی کی ضروریات این پی ٹی کے دائرہ کار میں رہ کر پوری کرے گا۔
ایران کے 450 بیلسٹک میزائل حملے اسرائیل میں شدید نقصانات 30 ہزار افراد معاوضے کے منتظر

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے، جسے ایران ہمیشہ مسترد کرتا آیا ہے۔

اتوار کے روز امریکا اور اسرائیل نے ایران کی فوجی اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے۔ اس دوران ایرانی سفارت کار مغربی طاقتوں سے مذاکرات میں مصروف تھے۔ مجید تخت‌ روانچی کا کہنا تھا کہ جب ایران پر حملے کیے جا رہے ہوں تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں رہتا، ہم برائے نام مذاکرات کے قائل نہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو خط لکھ کر امریکی حملوں کے ممکنہ تباہ کن نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ حملہ کرنے والا ملک خود جوہری ہتھیاروں سے لیس ہے اور اس کا اقدام عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے۔ عباس عراقچی نے ان حملوں کو غیرقانونی اور بلااشتعال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں کی ہلاکتیں اور ماحولیاتی تباہی ہو سکتی ہے۔

دریں اثنا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ایرانی مندوب امیر سعید ایروانی نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو اپنی خودمختاری کے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور ان حملوں کے جواب کی نوعیت اور وقت کا فیصلہ ایرانی افواج خود کریں گی۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ترکیہ میں او آئی سی اجلاس کے بعد روس پہنچ چکے ہیں جہاں وہ آج صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “ایران نے این پی ٹی معاہدے سے وابستگی کا اعادہ امریکی حملوں پر بھرپور جواب دینے کا اعلان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!