کراچی: سندھ اسمبلی کے باہر سرکاری ملازمین نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے اور ڈسپنسری الاؤنس کی عدم شمولیت کے خلاف شدید احتجاج کیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور مرکزی سڑک بلاک ہوگئی۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کے لیے 40 فیصد ڈسپنسری الاؤنس شامل کیا ہے، جبکہ سندھ حکومت نے اپنے بجٹ میں ایسا کوئی اعلان نہیں کیا، جو صوبائی ملازمین کے ساتھ واضح ناانصافی ہے۔
ملازمین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر تنخواہوں میں اضافے، الاؤنس کی فراہمی اور مساوی سلوک کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین نے اعلان کیا کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی، وہ احتجاج ختم نہیں کریں گے اور دھرنا جاری رکھیں گے۔
احتجاج کے باعث سندھ اسمبلی کے اطراف سیکیورٹی ہائی الرٹ رہی اور شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔