حکومت پاکستان کے ٹیکس اصلاحات اور ڈیجیٹائزیشن میں شراکت دار ادارے کارانداز پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق، سال 2024 میں ملک بھر میں بڑھتے ہوئے روزمرہ کے اخراجات پاکستانی عوام کو مالی دباؤ کا شکار بنا رہے ہیں۔ فنانشل انکلوژن سروے (K-FIS) کے مطابق، گزشتہ پانچ سالوں میں قرض لینے کی سب سے بڑی وجہ گھریلو اخراجات میں اضافہ رہا ہے، جس کے باعث 12 فیصد بالغ پاکستانیوں نے قرض لینے کا فیصلہ کیا۔
Thursday, 19th June 2025
بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن اور برطانوی ادارے FCDO کے مالی تعاون سے مکمل کیے گئے اس سروے میں انکشاف ہوا کہ مالی مشکلات کی دیگر بڑی وجوہات میں 7 فیصد افراد نے صحت کے اخراجات، اور 6 فیصد نے بے روزگاری یا آمدن میں کمی کے باعث قرض لیا۔
مزید وجوہات میں 3 فیصد نے شادی بیاہ، 3 فیصد نے زرعی نقصان، 2 فیصد نے پراپرٹی نقصانات، 1.5 فیصد نے تعلیمی اخراجات، اور 0.1 فیصد نے زلزلے سے ہونے والے نقصان کے باعث قرض لینے کی رپورٹ دی۔
سروے کے نتائج کے مطابق، خود روزگار کرنے والے افراد میں قرض کی سب سے زیادہ شرح (15 فیصد) دیکھی گئی، اس کے بعد بلو کالر ورکرز اور گھریلو خواتین (14 فیصد)، اور معذور افراد (12 فیصد) شامل ہیں، جو کہ مختلف طبقات میں بڑھتے معاشی دباؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب، طلبہ (2 فیصد)، سفید پوش ورکرز (7 فیصد) اور شہری رہائشیوں (8 فیصد) میں قرض کی طلب نسبتاً کم رہی۔ غیر متوقع طبی اخراجات کے لیے بھی 7 فیصد پاکستانیوں نے قرض لیا، جن میں معذور بے روزگار افراد (16 فیصد) سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔
قرض کی یہ بڑھتی ہوئی شرح ملک میں معاشی غیر یقینی، مہنگائی اور مالی وسائل کی عدم دستیابی کی واضح عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر ان طبقات میں جو پہلے ہی کمزور معاشی حیثیت رکھتے ہیں۔
سروے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دیہی علاقوں میں صحت سے متعلق قرض لینے کی شرح شہری علاقوں سے زیادہ ہے، جبکہ ریٹائرڈ افراد (2 فیصد) اور طلبہ (1 فیصد) نے سب سے کم مالی دباؤ ظاہر کیا۔
