کراچی (اسٹاف رپورٹر): انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ پولیس کے جاری منصوبوں خصوصاً سیف سٹی، ہائی وے پیٹرول (SPHP) اور ایس فور (S4) کی کارکردگی، چیلنجز اور مستقبل کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور فلپائن کے تعلقات مستحکم، تجارتی و ثقافتی روابط میں توسیع جاری: فلپائنی سفیر
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی جی سیف سٹی، این آر ٹی سی حکام، سی پی ایل سی کے نمائندے، ڈی آئی جی ہائی وے پیٹرول، زونل اور ڈویژنل ڈی آئی جیز، ایس ایس پیز، اے آئی جیز، کمانڈ اینڈ کنٹرول، ایڈمن اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ڈی جی سیف سٹی اور دیگر حکام نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت اب تک 514 کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 308 اے این پی آر (نمبر پلیٹ شناختی کیمرے) ہیں۔ صرف گزشتہ ہفتے کے دوران جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں کے خلاف 10 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کی بعض شاہراہوں پر انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باعث الرٹس کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اس مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ٹال پلازہ پر نصب چند کیمروں کو مستقل بجلی کی فراہمی شروع ہو چکی ہے اور میٹرز بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔
ڈی آئی جی ہائی وے پیٹرول نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ اکثر ہالٹنگ پوائنٹس کی مرمت مکمل ہو چکی ہے اور باقی پوائنٹس کو بھی جلد فعال کیا جائے گا۔ ایس فور اور دیگر منصوبوں کے تحت فراہم کردہ آلات کی حفاظت کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا تاکہ وہ بارشوں اور شدید موسم سے متاثر نہ ہوں۔
این آر ٹی سی حکام نے اجلاس کو بتایا کہ وہ ملک بھر میں یکساں طرز کے سیف سٹی کیمرے اور سروسز فراہم کر رہے ہیں اور کراچی میں بقایا کیمروں کی تنصیب جلد مکمل کر لی جائے گی۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیف سٹی فیز ون کی کامیابی ہی فیز ٹو کی بنیاد ہے۔ انہوں نے "ڈسپیچ میکانزم” کو مزید موثر بنانے، الرٹس کی بروقت ترسیل و وصولی، آلات کی حفاظت، ہائی وے پوائنٹس کی مرمت، بنیادی سہولیات کی فراہمی، اور وائرلیس کمیونیکیشن سسٹم کی بہتری پر زور دیا۔
آخر میں انہوں نے گرمی کے موسم میں ہائی وے اور سڑکوں پر ڈیوٹی انجام دینے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

