پاکستان میں پہلی بار اندرونی معلومات کے غلط استعمال پر سزا نجی بینک کا افسر مجرم قرار

اسپیشل جج بینکنگ کورٹ نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اندرونی معلومات کے ناجائز استعمال (Insider Trading) پر سزا سنادی۔ یہ مقدمہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔ عدالت نے نجی بینک کے اسسٹنٹ وائس پریزیڈنٹ انویسٹمنٹس کو مجرم قرار دیتے ہوئے 86 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔
ججز سینیارٹی و تبادلہ کیس ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے دلائل مکمل مختصر فیصلہ آج متوقع

ایس ای سی پی کا مؤقف

چیئرمین ایس ای سی پی عاکف سعید نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ:

"یہ فیصلہ کیپیٹل مارکیٹ میں شفافیت کے فروغ اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں اہم سنگ میل ہے، جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کا ذریعہ بنے گا۔”

مقدمے کی تفصیلات

تحقیقات کے مطابق، مجرم نے کمپنی کی اندرونی معلومات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک کروڑ 17 لاکھ حصص خریدے، جس کے بعد لاکھوں روپے کا غیر قانونی منافع کمایا۔ عدالت نے اس منافع سے تین گنا زائد رقم بطور جرمانہ عائد کرتے ہوئے ملزم کو سزا سنائی۔

پاکستان میں مالیاتی قانون کی تاریخ میں اہم پیش رفت

یہ فیصلہ پاکستان میں اندرونی معلومات کے غلط استعمال پر پہلی سزا ہے، جسے کیپیٹل مارکیٹ میں قانون کی بالادستی کے لیے ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

69 / 100 SEO Score

One thought on “پاکستان میں پہلی بار اندرونی معلومات کے غلط استعمال پر سزا نجی بینک کا افسر مجرم قرار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!