ججز کی سینیارٹی اور تبادلے سے متعلق کیس میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب امجد پرویز نے دلائل مکمل کرلیے۔ عدالت میں ماضی کی عدالتی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ون یونٹ کے قیام و تحلیل کے وقت بھی ججز کی سابقہ سروس اور سینیارٹی کو تسلیم کیا گیا تھا۔
Wednesday, 18th June 2025
ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ اور بلوچستان ہائی کورٹس کی علیحدگی کے وقت بھی یہی اصول اپنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں بھی سب سے سینئر جج کو سربراہی سونپی گئی، جس سے عدالتی روایت ظاہر ہوتی ہے۔
عدالت کے سوالات اور وکلا کے جوابات
جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت جج کا تبادلہ مستقل ہوگا یا عارضی؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے وضاحت کی کہ ٹرانسفر مستقل نوعیت کا ہوتا ہے، اگرچہ جس ہائی کورٹ کو اضافی جج کی ضرورت ہو وہاں مدت کا ذکر ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کے وکیل کا مؤقف: سینیارٹی صرف اصل ہائی کورٹ میں
ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل مکمل ہونے پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل ادریس اشرف نے دلائل کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ تبادلہ ہو کر آنے والے ججز کی سینیارٹی صرف ان کی اصل ہائی کورٹ میں شمار ہوگی، جب کہ نئی ہائی کورٹ میں وہ ایڈہاک حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ انہوں نے مزید دلائل آج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
اٹارنی جنرل کا بیان اور ججز کے ریمارکس
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اُنہیں دلائل مکمل کرنے کے لیے صرف پندرہ منٹ درکار ہیں۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ:
“ذوالفقار علی بھٹو کیس میں بھی ججز وکلا سے کہتے رہے کہ دلائل مختصر کریں، لیکن دلائل طویل ہوتے گئے، کیس میں تاخیر ہوئی، ججز ریٹائر ہوتے گئے اور بینچ کی تشکیل بدلتی رہی۔”
