کراچی: قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) کی جانب سے لگائے گئے مبینہ 40 ارب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
مفتی تقی عثمانی: تمام مسلم ممالک اسرائیلی خطرے کے خلاف متحد ہوں — قدرت کی طرف سے ایک اور موقع
ترجمان این آئی سی وی ڈی کے مطابق، یہ الزامات ایک غیر حتمی آڈٹ ڈرافٹ رپورٹ کی بنیاد پر لگائے گئے ہیں جو حقائق کے منافی ہیں، کیونکہ ادارے کو سال 2023-2024 میں فراہم کردہ بجٹ اس دعوے سے کہیں کم تھا۔ الزامات میں مبالغہ آرائی اور سیاق و سباق سے ہٹ کر معلومات کو پیش کرنے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
ادارے نے واضح کیا کہ تمام آڈٹ اعتراضات پر پہلے ہی تفصیلی وضاحت پیش کی جا چکی ہے، اور ادارہ مکمل تعاون کے ساتھ ثبوت فراہم کر رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق آڈٹ پیراز محض ابتدائی سوالات ہوتے ہیں، جنہیں تحقیقات کے بغیر بدعنوانی قرار دینا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔
ادارے نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ موجودہ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر طاہر صغیر کو سابق ادوار کی کسی ممکنہ بے ضابطگی سے جوڑنا سراسر غلط ہے کیونکہ انہوں نے نومبر 2023 میں چارج سنبھالا تھا۔
مزید کہا گیا کہ این آئی سی وی ڈی شفافیت اور معیار کی بنیاد پر قوم کی خدمت کر رہا ہے۔ گزشتہ سال 14 لاکھ سے زائد مریضوں کو مفت اور معیاری علاج کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ ادارے کی شاندار کارکردگی میں پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے مریضوں نے بھی بھرپور استفادہ کیا۔
ترجمان نے اپیل کی کہ میڈیا اور سول سوسائٹی تصدیق کے بغیر سنسنی خیز رپورٹنگ سے گریز کریں، تاکہ ایسے قومی ادارے جو روزانہ ہزاروں جانیں بچا رہے ہیں، ان کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچے۔
