کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت میں جاری اختلافات اور اندرونی کشمکش نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ پارٹی چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے نام سے منسوب ایک مبینہ ٹویٹ نے سیاسی حلقوں میں پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔
کراچی میں ہیوی ٹریفک کے لیے پابندی کے اوقات کار میں 16 اگست تک توسیع
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس ٹویٹ میں خالد مقبول صدیقی کی جانب سے ڈاکٹر فاروق ستار، امین الحق، شکیل احمد اور محمد شریف کو پارٹی کے اندر "سازشی عناصر” قرار دیا گیا ہے اور یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ان رہنماؤں نے چیئرمین شپ کے خلاف سازش کی۔
تاہم، پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے مذکورہ ٹویٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک منظم سازش کا حصہ کہا ہے۔
امین الحق نے کہا کہ چند جرائم پیشہ عناصر پارٹی میں گھس کر تنظیم کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جبکہ شکیل احمد کا کہنا ہے کہ مفاد پرست ٹولہ پارٹی میں آ بیٹھا ہے جو ایم کیو ایم کو اندر سے نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔
رہنماؤں کے مطابق یہ ٹویٹ کسی جعلی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد پارٹی میں افتراق اور قیادت پر عدم اعتماد پیدا کرنا ہے۔
داخلی اختلافات اور باہمی الزامات سے گھری ایم کیو ایم پاکستان ایک بار پھر تنظیمی بحران سے دوچار دکھائی دیتی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں پارٹی کی سیاسی ساکھ اور اتحاد پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

