اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران کے مرکزی شہر کاشان میں تین افراد جاں بحق اور چار زخمی ہو گئے۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے نور نیوز کے مطابق ان حملوں میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جبکہ تہران میں دھماکوں اور فائرنگ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔
ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حق میں نعرے، اسرائیلی جارحیت پر بھرپور یکجہتی کا اظہار
مقامی میڈیا کے مطابق مشرقی تہران میں اسرائیلی میزائل حملوں کے بعد دھواں اٹھتا دیکھا گیا، جبکہ نطنز — جو ایران کی جوہری تنصیبات کا اہم مرکز ہے — میں بھی دفاعی نظام مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا۔
ادھر اسرائیلی میڈیا اور فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں ایران کی فوج کے نئے تعینات شدہ کمانڈر میجر جنرل علی شادمانی شہید ہو گئے ہیں۔ وہ حال ہی میں جنرل غلام علی راشد کی شہادت کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جانب سے "خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز” کا کمانڈر مقرر کیے گئے تھے۔
مزید برآں، اسرائیلی حملے میں ایران کے سرکاری ٹی وی ہیڈکوارٹرز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس میں نیوز ایڈیٹر نیما رجب پور سمیت عملے کے تین افراد شہید ہو گئے۔ مہر نیوز کے مطابق رجب پور دو بیٹیوں کے باپ تھے اور اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہونے کے بعد شہید ہوئے۔
اس تمام صورت حال کے بعد تہران سے شہریوں کا انخلا شروع ہو چکا ہے۔ کرج-چالوس ہائی وے اور دیگر خارجی راستوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں، جہاں شہری اپنے اہل خانہ کے ہمراہ شہر چھوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے تہران کی ایئراسپیس پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور ایران کے ایک تہائی میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم ایرانی حکام نے ان دعوؤں کو "مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے تل ابیب کے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ فوجی تنصیبات کے نزدیک کے علاقوں کو خالی کر دیں۔
دوسری جانب، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک پیغام میں کہا ہے کہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔ انہوں نے تہران کی جانب سے جوہری معاہدے پر دستخط نہ کرنے کو "بیوقوفی” قرار دیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل نے حملوں سے قبل ٹی وی چینلز، اسپتالوں، اور دیگر شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا تھا، جن میں قُم ہائی وے، سواہ ہائی وے، کرمان شاہ میں اسپتال، اور الام میں فائر اسٹیشن شامل ہیں۔ مشرقی و مغربی تہران میں ان حملوں سے کئی شہری زخمی بھی ہوئے۔
