ایران نے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں "آپریشن وعدہ صادق 3” کے تحت بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن میں تل ابیب، مقبوضہ بیت المقدس، اور حیفہ سمیت کئی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ حیفہ کی آئل ریفائنری بند، متعدد ہلاکتیں، جب کہ چین نے اپنے شہریوں کو اسرائیل سے فوری انخلا کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
تہران پر اسرائیلی حملے جنرل علی شادمانی سمیت اہم شخصیات شہید شہری انخلا پر مجبور
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کے بعد تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق ایران سے میزائل داغے جانے کی نشاندہی کے بعد ملک بھر میں سائرن بجنے لگے۔
فضائیہ نے کہا کہ خطرہ روکنے اور جوابی کارروائی کے لیے کارروائی جاری ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں شہریوں کو محفوظ مقامات سے نکلنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے۔
اسرائیلی پولیس نے تصدیق کی کہ تل ابیب میں میزائل اور شیلنگ کا ملبہ گرا ہے، جس سے مالی نقصان ہوا ہے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں اسرائیلی فوج کی حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور کچھ تصاویر عارضی طور پر اسرائیلی میڈیا پر شائع ہوئیں، جنہیں بعد میں ہٹا دیا گیا۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق کارروائی پیر کی رات ایک بج کر بیس منٹ پر کی گئی اور اسے ’آپریشن وعدہ صادق 3‘ کا تسلسل قرار دیا گیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بیزان گروپ کی آئل ریفائنری بند کر دی گئی ہے۔ ایرانی حملے میں پلانٹ کو شدید نقصان پہنچا، اور 3 افراد ہلاک ہو گئے۔
میزائل گرنے اور آگ لگنے کی اطلاعات، فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں متحرک۔
ایرانی میڈیا کا دعویٰ کہ ایک اسرائیلی F-35 اسٹیلتھ طیارہ مار گرایا گیا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس نے اس کی تردید کی ہے۔
اسرائیلی فضائیہ نے ایران کے F-14 طیارے تباہ کرنے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔
اسرائیل میں سیکیورٹی کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر زمینی راستوں سے انخلا کی ہدایت کی ہے۔
ہوائی راستوں پر انحصار نہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے کیونکہ اسرائیلی فضائی حدود بدستور بند ہے۔
اسرائیل کو خبردار کیا گیا ہے کہ "آج کی رات کو دن کے نظارے میں بدل دیں گے”۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں مکمل دفاع کرے گا اور یہ میزائل حملے قوم کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہیں۔
