لاہور، 16 جون 2025: پنجاب اسمبلی میں وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے مالی سال 2025-26 کے لیے 4,000 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔
اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل میری ٹائم ایکسپو اینڈ کانفرنس 2025 کی سافٹ لانچ، وزیر اعظم کی شرکت
بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے تعلیم، صحت، نوجوانوں کی فلاح، معیشت کی ترقی، شفافیت اور گڈ گورننس پر مبنی متعدد انقلابی اقدامات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بھارتی جارحیت پر پاک فوج کی تاریخی فتح اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی قائدانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تعلیم و نوجوانوں کی ترقی:
نوجوانوں کے لیے 10 ارب روپے کی لاگت سے لیپ ٹاپ اسکیم جاری ہے، جس کے تحت اب تک 50 ہزار سے زائد طلبہ مستفید ہو چکے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کے لیے 148 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ہونہار طلبہ کے لیے 15 ارب روپے کے وظائف اور اسکالرشپ پروگرام شامل ہیں۔
صحت کے شعبے میں بہتری:
صحت کے لیے 181 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ لاہور میں آٹزم اسکول اور نواز شریف کینسر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے قیام، سرگودھا اور لاہور میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹس کا اعلان، اور پنجاب بھر میں 20 ہزار مریضوں کو مفت ڈائیلاسز کی سہولت کی فراہمی بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
ترقیاتی بجٹ اور فلاحی منصوبے:
پنجاب حکومت نے 1,240 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش کیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 47 فیصد زائد ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اب تک 6,104 ترقیاتی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جن میں کوئی اسکینڈل سامنے نہیں آیا۔ ای ٹینڈرنگ اور گڈ گورننس سے شفافیت کو فروغ ملا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی اور کفایت شعاری:
ماحولیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں اخراجات میں 6 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف کا باعث بنے گا۔
