کراچی: آل کراچی رئیلٹرز ایسوسی ایشن (AKRA) کا بجٹ 2025-26 میں شامل ٹیکس تجاویز پر ایک اہم اجلاس چیئرمین راحیل ہارون اور صدر ایم رحمان کی زیر صدارت ایسوسی ایشن کے سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔
اجلاس میں وفاقی بجٹ میں شامل ایجنڈہ نمبر 115 اور انکم ٹیکس سیکشن 114C کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر اس "غیر منصفانہ” قانون کو واپس لے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ:
ڈیفنس میں سیف سٹی سسٹم کی اپ گریڈیشن، ایڈیشنل آئی جی کراچی کی CPK کنٹرول روم آمد
ڈیمڈ رینٹل انکم (سیکشن 7E) کے خالق سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل خود اس اقدام کو غلط تسلیم کر چکے ہیں، اور موجودہ چیئرمین ایف بی آر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ کو غلطی مان چکے ہیں، مگر ان پالیسیوں سے ملکی معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
Eligible Purchaser کی شرط کو غیر حقیقی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قانون FBR افسران کو پولیس افسر جیسا اختیار دے گا جس سے بدعنوانی کو فروغ ملے گا اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ دنیا کے 200 ممالک (جیسے UAE، USA، ترکی) میں نان فائلرز کو جائیداد خریدنے کی اجازت ہے اور وہ از خود ٹیکس نظام میں شامل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس پر پابندی سے سرمایہ سونے، ڈالر، اجناس اور بیرون ملک منتقل ہو گا، جس سے ٹیکس ریونیو نہیں بلکہ غیر رسمی معیشت فروغ پائے گی۔
اجلاس میں رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشن پر نافذ مختلف ٹیکسز کو بھی غیر ضروری اور بوجھل قرار دیا گیا، جن میں شامل ہیں:
ایڈوانس ٹیکس (سیلر) — 4.5% سے 5.5%
ایڈوانس ٹیکس (پرچیزر) — 1.5% سے 3%
گین ٹیکس — 15%
ڈیمڈ رینٹل انکم — 1%
اسٹیمپنگ — 2%
ٹرانسفر فیس، رجسٹرار فیس — متعلقہ ادارہ
ٹاؤن ٹیکس — 1%
نان یوٹیلائزیشن فیس
گراؤنڈ رینٹ
ان اقدامات کے بعد خریدار خودبخود ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کا پابند ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ کی رفتار کم اور سرمایہ غیر رسمی ذرائع میں منتقل ہو گا۔
ایسوسی ایشن نے وزیراعظم پاکستان، وزیر خزانہ، وزیراعلیٰ سندھ اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے اپیل کی کہ رئیل اسٹیٹ جیسی روزگار فراہم کرنے والی مادر انڈسٹری کو سہارا دیا جائے تاکہ لاکھوں افراد کا روزگار محفوظ رہ سکے اور جی ڈی پی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

