وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کہا ہے کہ سندھ پولیس جرائم پیشہ عناصر، ڈاکوؤں اور امن دشمنوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، پولیس کو جدید اسلحے اور تربیت سے لیس کیا جا چکا ہے، اور مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ وہ ٹھٹھہ میں جدید طرز پر تعمیر کیے گئے ماڈل تھانے کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
تقریب میں صوبائی وزیر اوقاف و زکوٰة سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، چیئرمین ضلع کونسل عبدالحمید پنہور، ڈی آئی جی طارق رزاق دھاریجو، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد عمران خان اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ:
"ماڈل تھانے میں عوامی سہولت کے لیے انتظار گاہ، خواتین و بچوں کے لیے مخصوص ڈیسک، قانونی مشاورت کا انتظام، تفتیشی کمرا اور دیگر جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں، تاکہ شکایت کنندگان کو فوری اور مؤثر ریلیف دیا جا سکے۔”
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ پولیس کندھ کوٹ، شکارپور، لاڑکانہ جیسے حساس علاقوں میں ڈاکو کلچر کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت اور آرمی چیف کی جانب سے جدید اسلحہ و تعاون پر شکرگزار ہیں۔
ایک سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ:
"پریا کماری کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ وہ جلد بحفاظت اپنے اہل خانہ سے جا ملے۔”
پولیس فورس میں بھرتیوں سے متعلق انہوں نے واضح کیا کہ:
"قابل اور ذہین نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔”
آئی جی سندھ سے اختلافات سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ:
"اختلاف کی خبریں بے بنیاد ہیں، آئی جی ایک سرکاری ذمہ دار ہیں اور ہمارے درمیان مکمل تعاون موجود ہے۔”
اس موقع پر مقامی صحافی مخدوم عابد قریشی کی جانب سے بھائی کے قتل اور ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے کی شکایت پر وزیر داخلہ نے ایس ایس پی کو فوری اقدامات کی ہدایت کی اور کہا کہ:
"صحافی کو مکمل تحفظ دیا جائے اور ملزمان کی فوری گرفتاری یقینی بنائی جائے۔”
ضیاء الحسن لنجار نے ماڈل تھانے کے تفتیشی شعبہ، خواتین ڈیسک، لاک اپ اور دیگر سہولتی مراکز کا تفصیلی دورہ بھی کیا اور ایس ایس پی کی کارکردگی کو سراہا۔
