تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے حملوں میں امریکا برابر کا شریک ہے اور اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے بین الاقوامی سطح پر ایک نئی "ریڈ لائن” عبور کی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کی نئی لہر اٹھ چکی ہے۔
پاکستان کوسٹ گارڈز کی بڑی کارروائی، گڈانی سے 13 ہزار غیر ملکی شراب کی بوتلیں برآمد
تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کی جانب سے نطنز ایٹمی تنصیب، پارس گیس فیلڈ اور توانائی کے انفرااسٹرکچر پر کیے گئے حملے جنگ کو خلیج فارس تک لے آئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کر رہا ہے، تاہم جنگ کو طول دینے یا دوسرے ممالک تک پھیلانے کا خواہشمند نہیں، مگر اگر مجبور کیا گیا تو ایران اس آپشن پر غور کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے ایرانی عہدیداروں کو شہید کر کے اور ایٹمی پروگرام کو نشانہ بنا کر مذاکرات سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اقدامات اس کے جوہری معاہدے کی مخالفت کا کھلا ثبوت ہیں۔
عباس عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کسی ایسے معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا جو اسے جوہری توانائی کے حق سے محروم کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران 60 فیصد سے زائد یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا اور اپنا پرامن جوہری پروگرام ترک نہیں کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے عالمی برادری اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی حملے کی مذمت کریں اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنائیں۔
