اسلام آباد / واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری اسرائیل-ایران کشیدگی کے تناظر میں پاکستان نے امریکا کے دو اہم دورے ملتوی کر دیے ہیں، جن میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ اسحٰق ڈار اور ایک اعلیٰ سطحی تجارتی وفد کا دورہ شامل ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اسحٰق ڈار آئندہ ہفتے نیویارک میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق اقوامِ متحدہ کی مجوزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے روانہ ہونے والے تھے، تاہم اسرائیلی فضائی حملے کے بعد فرانس اور سعودی عرب — جو اس کانفرنس کے میزبان تھے — نے اقوامِ متحدہ سے اجلاس ملتوی کرنے کی درخواست کی۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ کانفرنس کو سیکیورٹی اور لاجسٹک وجوہات کی بنیاد پر مؤخر کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ یہ کانفرنس جلد دوبارہ منعقد کی جائے گی۔
اسی کشیدہ صورتحال کے باعث پاکستان کے تجارتی وفد کا واشنگٹن دورہ بھی ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد امریکا کے ساتھ ٹیرف مذاکرات تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پریس بریفنگ میں اس وفد کے دورے کا اعلان کیا تھا، مگر بدلتے حالات کے پیش نظر یہ منصوبہ فی الحال روک دیا گیا ہے۔
پاکستانی حکام نے وضاحت کی ہے کہ دونوں دورے ملتوی ضرور ہوئے ہیں، لیکن منسوخ نہیں کیے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ "ہم نئے شیڈول پر کام کر رہے ہیں”۔
