پاکستان مسلم لیگ فنکشنل اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے مالی سال 2025 کے وفاقی و صوبائی بجٹ کو عوام دشمن قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ جی ڈی اے کے سیکریٹری اطلاعات سردار عبدالرحیم نے پریس بیان میں کہا کہ یہ بجٹ نمبروں کا ہیر پھیر اور ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے، جو صرف عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔
سندھ حکومت کا بجٹ 2025 عوام دشمن ہے، کراچی کے ساتھ سنگین ناانصافی کی گئی — رکن اسمبلی محمد فاروق
انہوں نے کہا کہ کراچی جیسا شہر، جو سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، اسے ایک بار پھر بجٹ میں مکمل نظر انداز کیا گیا ہے، حتیٰ کہ کوئی میگا پراجیکٹ تک شامل نہیں کیا گیا۔
سردار عبدالرحیم نے کہا کہ تعلیم کے لیے محض 5.39 ارب روپے رکھے گئے جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ قوم کو تعلیم نہیں بلکہ بھکاری بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ مکمل طور پر سرمایہ داروں کا ہے، جس میں غریبوں کے لیے کوئی ریلیف موجود نہیں۔ نجی شعبے کے ملازمین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا جبکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہے۔
سردار عبدالرحیم نے پیپلزپارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر وہ واقعی عوام کے ساتھ ہے تو احتجاجاً وفاقی حکومت سے علیحدگی اختیار کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں تعلیم، صحت، زراعت، اور امن و امان کی صورتحال تباہ حال ہے اور ترقیاتی منصوبوں میں صرف ٹوکن رقم مختص کی گئی، جو محض دکھاوا ہے۔
جی ڈی اے نے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ جعلی حکومت کو فوری طور پر برطرف کر کے نئے شفاف انتخابات کرائے جائیں۔
