جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی بھارتی جارحیت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس عسکری حکمت عملی نے خطے کے امن کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ بھارت کے حالیہ 77.4 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ اور پاکستان مخالف جنگی مشقوں نے سیکیورٹی خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے مطابق بھارت کے دفاعی اخراجات میں گزشتہ دہائی میں 170 فیصد تک اضافہ ہوا، جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کو دفاعی طور پر محدود کرنا ہے۔ اسرائیلی ساختہ ڈرونز، I-STAR جیسے اسٹرائیک طیارے، اور سرحد کے قریب فضائی مشقیں اس جارحیت کی عکاس ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے اپنی محدود دفاعی بجٹ کے باوجود دہشتگردی کے خلاف طویل جنگ لڑی اور قربانیاں دیں۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ زیادہ تر تنخواہوں، شہداء فنڈز، ریٹائرڈ اہلکاروں کی فلاح اور سیکیورٹی آپریشنز پر خرچ ہوتا ہے۔
موجودہ حالات میں، سائبر سیکیورٹی، AI، ڈرون وار فیئر اور اطلاعاتی جنگ کے نئے خطرات کے پیش نظر پاکستان کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی اشد ضرورت ہے۔ چین اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے جے-35 اسٹیلتھ طیاروں، کے جے-500 ایواکس، اور ایچ کیو-19 ڈیفنس سسٹم کی پیشکش کو عملی شکل دینے کے لیے اضافی بجٹ ناگزیر ہے۔
یہ بجٹ اضافہ اگرچہ بھارت سے کم ہے، مگر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔
