وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا، جس میں ملکی معیشت کے استحکام، ترقی، اصلاحات اور محصولات میں اضافے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں ترسیلات زر 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں اور سال کے اختتام پر یہ 37 سے 38 ارب ڈالر تک جا سکتی ہیں۔
قومی اسمبلی کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس، بجٹ اجلاس کا شیڈول 27 جون تک طے
معاشی ترقی کی شرح 2.7 فیصد ہو چکی ہے جبکہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 4.7 فیصد رہ گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کے لیے ترقی کی شرح 4.2 فیصد اور مہنگائی و شرح سود 7.5 فیصد متوقع ہے۔ بجٹ خسارہ 3.9 فیصد جبکہ بنیادی سرپلس 2.4 فیصد ہے۔
وفاقی ترقیاتی پروگرام کے لیے ایک کھرب روپے اور مجموعی قومی ترقیاتی اخراجات کے لیے 4.224 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایف بی آر کی آمدنی کا ہدف 14.131 کھرب روپے مقرر کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ برس سے 18.7 فیصد زیادہ ہے۔ کل وفاقی اخراجات 17.573 کھرب روپے ہوں گے جن میں 8.207 کھرب روپے صرف قرضوں کی ادائیگی کے لیے ہیں۔
دفاعی بجٹ 2.55 کھرب، پنشنز کے لیے 1.055 کھرب، اور سبسڈی کے لیے 1.186 کھرب روپے رکھے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ایف بی آر نے جعلی ریفنڈز اور ٹیکس چوری روک کر اربوں روپے بچائے، جبکہ AI اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے نظام کو شفاف بنایا جا رہا ہے۔ ترسیلات زر، برآمدات، قرضوں کی واپسی، توانائی اصلاحات، نجکاری، اور چھوٹے کاروباروں کو مالی سہولتوں میں پیش رفت کو سراہا گیا۔
ریکوڈک منصوبے سے 75 ارب ڈالر کی آمدن متوقع ہے جبکہ بجلی کے شعبے میں مہنگے اور ماحول دشمن پاور پلانٹس بند کیے جا رہے ہیں۔ بی آئی ایس پی کے لیے 716 ارب روپے کی تجویز دی گئی ہے، جو گزشتہ سال سے 21 فیصد زیادہ ہے۔
