قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) نے آڈیٹر جنرل سندھ کی رپورٹ کی بنیاد پر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان کے مطابق میڈیا میں گردش کرنے والے الزامات آڈٹ کی معمول کی مشاہداتی رپورٹ پر مبنی ہیں، جو بدعنوانی یا بے ضابطگی کا ثبوت نہیں۔
ڈیفنس تشدد کیس ملزمان کی ضمانت کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں زیر سماعت
ترجمان نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے کی طرح این آئی سی وی ڈی کو بھی آڈیٹر جنرل کی جانب سے آڈٹ آبزرویشنز موصول ہوتی ہیں، جن کا تفصیلی جواب متعلقہ دستاویزات کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ ان مشاہدات کی بنیاد پر الزامات لگانا گمراہ کن اور قبل از وقت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مشاہدات بیشتر گزشتہ سالوں سے متعلق ہیں جن کا موجودہ انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں۔ این آئی سی وی ڈی شفافیت پر یقین رکھتا ہے اور ہر اعتراض کا باقاعدہ جواب دے گا۔
ترجمان کا سوال: صرف این آئی سی وی ڈی کو نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ دیگر اداروں کی رپورٹس میڈیا میں کیوں نہیں آتیں؟ ایسا لگتا ہے کہ ایک قومی طبی ادارے کو جان بوجھ کر بدنام کیا جا رہا ہے جو لاکھوں مریضوں کو مفت علاج فراہم کر رہا ہے۔
قابلِ ذکر خدمات:
این آئی سی وی ڈی نے سال 2024 کے دوران:
14 لاکھ سے زائد مریضوں کا مفت علاج
10,000 ایمرجنسی انجیو پلاسٹیز
1,450 بچوں کی دل کی سرجریز
276,000 سے زائد ایمرجنسی کیسز
333,000 سے زائد آؤٹ پیشنٹ کنسلٹیشنز
160,000 سے زائد دوسرے صوبوں سے آنے والے مریضوں کا علاج
ترجمان نے واضح کیا کہ ادارے کے تمام مالی معاملات، تنخواہیں اور مراعات گورننگ باڈی کی منظوری سے دی جاتی ہیں تاکہ بہترین ماہرین کی خدمات حاصل کی جا سکیں۔
ترقی کے منصوبے:
نیا OPD کمپلیکس ستمبر 2025 تک مکمل ہوگا
مسجد، نیا میس، 100 بیڈز کا ایمرجنسی روم، 300 نشستوں والا کانفرنس ہال، اور کلینیکل ٹرائل یونٹ زیر تعمیر ہیں
بلوچستان میں بچوں کی دل کی خدمات کا آغاز، 100 سے زائد سرجریز مکمل
ترجمان کے مطابق الزامات سابق ناراض ملازمین کی جانب سے لگائے گئے ہیں جو ذاتی رنجش یا ڈسپلنری ایکشن کی بنیاد پر ادارہ چھوڑ چکے ہیں۔
درخواست برائے ذمہ دارانہ صحافت:
ترجمان نے صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز سے اپیل کی کہ وہ عوامی صحت سے متعلق اداروں کے بارے میں رپورٹنگ میں سنجیدگی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ عوام کے اعتماد اور مفت علاج کی سہولیات کو نقصان نہ پہنچے۔
