اسلام آباد میں عیدالاضحیٰ سے قبل 2 جون کو قتل کی جانے والی 17 سالہ سوشل میڈیا انفلوئنسر ثنا یوسف کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ تشکر نیوز کے مطابق پراسیکیوشن کی دو رکنی ٹیم، جس میں ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر عدنان علی اور راجہ نوید کیانی شامل ہیں، کو کیس کی تفتیش میں تفتیشی افسر کی معاونت کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
امن چاہتے ہیں مگر کمزوری نہیں دکھائیں گے جنوبی ایشیا کو تصادم سے بچانا ہوگا
پراسیکیوشن ٹیم کیس کے چالان کی اسکروٹنی کرے گی تاکہ اسے قانونی طور پر مضبوط بنایا جا سکے اور عدالت سے ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائی جا سکے۔
یاد رہے کہ ثنا یوسف کو 2 جون کی شام اسلام آباد میں واقع ان کے گھر میں ایک نامعلوم مسلح شخص نے گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔ مقتولہ کی والدہ فرزانہ یوسف کی مدعیت میں سمبل پولیس اسٹیشن میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق حملہ آور شام 5 بجے کے قریب گھر میں داخل ہوا اور جان سے مارنے کی نیت سے براہ راست فائرنگ کی۔ ثنا یوسف کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، مگر وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبر نہ ہو سکیں۔
ثنا یوسف سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں، ان کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر تقریباً 8 لاکھ جبکہ انسٹاگرام پر 5 لاکھ کے قریب فالوورز تھے۔
