امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے فضائی حملے کے جواب میں سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان بدھ کے روز ایک گھنٹے سے زائد طویل ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس میں یوکرین جنگ، ایران جوہری معاہدہ اور پاک بھارت کشیدگی جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سنگین، ہر شہری کردار ادا کرے: صدر مملکت آصف علی زرداری
ٹرمپ نے گفتگو کے بعد اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ پیوٹن نے واضح طور پر کہا کہ یوکرین کی جانب سے روسی فضائی اڈوں پر حملے کا مناسب اور سخت جواب دیا جائے گا۔
ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ روسی صدر نے اشارہ دیا کہ وہ جوہری مذاکرات میں مدد فراہم کرنے پر آمادہ ہیں اور دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جا سکتے۔
روسی امور خارجہ کے مشیر یوری یوشاکوف کے مطابق گفتگو میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی بات ہوئی، جب کہ پیوٹن نے یوکرین کی طرف سے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔