وفاقی ترقیاتی بجٹ میں بڑی ردوبدل، ارکان پارلیمان کے لیے 70 ارب، دیگر شعبے متاثر

وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس میں آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی پروگرام (PSDP) میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر کی پی ٹی آئی میں شمولیت کا امکان، اعلان جلد متوقع

ذرائع کے مطابق نئے بجٹ کے پیش ہونے سے قبل ہی متعدد ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحات تبدیل کر دی گئی ہیں، جبکہ وفاقی پی ایس ڈی پی کا مجموعی حجم 1,000 ارب روپے برقرار رکھا گیا ہے۔

پارلیمنٹیرینز کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے بجٹ 50 ارب روپے سے بڑھا کر 70 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کا ترقیاتی بجٹ 5 ارب روپے کی کٹوتی کے بعد 65 ارب 44 کروڑ روپے کر دیا گیا۔
پنجاب کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی میں حصہ 16 ارب سے گھٹا کر 6 ارب روپے کر دیا گیا جبکہ خیبرپختونخوا کو محض 55 کروڑ روپے ملیں گے۔
دوسری جانب سندھ کے لیے ترقیاتی بجٹ 47 ارب سے بڑھا کر 65 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔

تعلیمی، صحت اور توانائی کے شعبوں پر منفی اثرات پڑے ہیں:

  • ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بجٹ کٹوتی کے بعد 39 ارب 48 کروڑ روپے

  • قومی صحت کا بجٹ 1 ارب کی کٹوتی کے بعد 14 ارب 34 کروڑ روپے

  • پاور ڈویژن کا بجٹ 13 ارب 78 کروڑ کی کٹوتی کے بعد 90 ارب 22 کروڑ روپے

بعض وزارتوں کو اضافی فنڈز دیے گئے ہیں:

  • آئی ٹی کا بجٹ 2 ارب 70 کروڑ بڑھا کر 16 ارب 22 کروڑ روپے

  • وزارت داخلہ کا بجٹ 10 ارب 90 کروڑ بڑھا کر 12 ارب 90 کروڑ روپے

جبکہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) کا بجٹ 2 ارب روپے کی کٹوتی کے بعد 226 ارب 98 کروڑ روپے رہ گیا ہے۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “وفاقی ترقیاتی بجٹ میں بڑی ردوبدل، ارکان پارلیمان کے لیے 70 ارب، دیگر شعبے متاثر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!