جامعہ کراچی میں شعبہ ابلاغ عامہ اور سیپا (سندھ انوائرونمنٹل پروٹیکشن ایجنسی) کے باہمی تعاون سے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا مرکزی موضوع پلاسٹک بیگز کے استعمال کے مکمل خاتمے سے متعلق شعور بیدار کرنا تھا۔
ڈسٹرکٹ سٹی پولیس کی ٹارگٹڈ کارروائیاں اسٹریٹ کرمنل سمیت 5 ملزمان گرفتار 10 کلو گٹکاماوا برآمد
سیمینار میں سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز، ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو اور وائس چانسلر جامعہ کراچی خالد حسین عراقی سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے ماحولیاتی آلودگی، پانی کی قلت، درجہ حرارت میں اضافہ اور پلاسٹک کی آفت جیسے سنگین چیلنجز پر روشنی ڈالی۔
سیکریٹری ماحولیات آغا شاہنواز کا کہنا تھا کہ 15 جون سے سندھ بھر میں پلاسٹک بیگز کے مکمل خاتمے کی مہم شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور لاڑکانہ میں اس حوالے سے بھرپور مہم چلائی جائے گی۔ "پلاسٹک پالوشن ہمارے ساحلوں اور آبی حیات کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، اس لیے ماحول کا تحفظ صرف حکومت نہیں، ہر شہری کی ذمہ داری ہے،” انہوں نے کہا۔
ڈی جی سیپا وقار حسین پھلپوٹو نے کہا کہ سیپا صنعتی نگرانی اور ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں جاری ماحولیاتی آگاہی مہم کو سراہا۔
وائس چانسلر خالد عراقی نے کہا کہ "99 فیصد پلاسٹک بیگز ہمارے ماحول کے لیے زہر قاتل ہیں۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان بہت جلد پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔”
مقررین نے زور دیا کہ پائیدار ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مقامی کمیونٹی، طلباء، صنعتی شعبے اور حکومت کو مشترکہ اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، سرسبز اور محفوظ ماحول یقینی بنایا جا سکے۔
