وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت کراچی پولیس آفس میں منشیات مافیاز کے خلاف جاری پولیس اقدامات اور انسداد منشیات کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے بھر کے پولیس افسران نے شرکت کی۔
منگھوپیر میں ٹینکر ڈرائیور کی ٹریفک اہلکار کے اغواء کی کوشش پولیس پارٹی پر حملہ 3 اہلکار زخمی
اجلاس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جیز کرائم، انویسٹی گیشن، اسپیشل برانچ، آئی ٹی، زونل ڈی آئی جیز اور کراچی کے تمام ضلعی ایس ایس پیز بالمشافہ شریک ہوئے، جب کہ حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، لاڑکانہ، سکھر سمیت دیگر اضلاع کے افسران نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اجلاس میں تمام ڈی آئی جیز نے اپنے متعلقہ ڈویژنز میں منشیات مافیاز کے خلاف پولیس کی جانب سے کیے گئے اقدامات، گرفتاریوں اور کامیابیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ:
بارڈر ایریاز پر منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے میکنزم کو غیر معمولی بنایا جائے۔
مقدمات کی تفتیش اس قدر مضبوط ہو کہ منشیات مافیاز کو مثالی سزائیں دی جا سکیں۔
منشیات کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر متعلقہ ایس ایس پیز ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ:
“منشیات ایک لعنت ہے، جو نہ صرف ہمارے نوجوانوں کو تباہ کر رہی ہے بلکہ امن و امان کی صورتحال کو بھی شدید متاثر کر رہی ہے۔”
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ:
درجہ بندی کے تحت منشیات مافیاز کی فہرستیں اپڈیٹ کی جا رہی ہیں۔
منشیات مافیاز کے گٹھ جوڑ میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
انسداد منشیات کے لیے بار بار اجلاس طلب کرکے رہنما ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے اجلاس میں یقین دہانی کرائی کہ وزیر داخلہ کی ہدایات پر مکمل عمل درآمد پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
وزیر داخلہ نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے منشیات کے خلاف مؤثر تجاویز طلب کرتے ہوئے عزم کا اظہار کیا کہ سندھ کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔
