کراچی: یکم جون سے شہر قائد میں اب تک 19 زلزلے کے جھٹکے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں، جن کی شدت 2.1 سے 3.6 کے درمیان رہی۔ مسلسل جھٹکوں نے شہریوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے، خاص طور پر ضلع ملیر، کورنگی اور ڈی ایچ اے کے علاقوں میں جھٹکے زیادہ شدت سے محسوس کیے گئے۔
ارلی سونامی وارننگ سیل کے مطابق، سب سے زیادہ زلزلہ خیز سرگرمیاں لانڈھی فالٹ لائن کے باعث ہو رہی ہیں، جو کئی دہائیوں کے بعد دوبارہ متحرک ہوئی ہے۔
سونامی وارننگ سینٹر کے سربراہ اور چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کا کہنا ہے کہ فالٹ لائن سے توانائی کا آہستہ آہستہ اخراج ہو رہا ہے، جو کسی بڑے زلزلے کے امکان کو کم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ زمین کی کم گہرائی (10 کلومیٹر تک) پر جھٹکوں کی وجہ سے شہری انہیں زیادہ شدت سے محسوس کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلوں کی یہ لہر آئندہ ایک ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے، تاہم اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ فالٹ لائن نارمل ہونے کے عمل سے گزر رہی ہے۔
زلزلہ متاثرہ علاقوں میں رہائش پذیر افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی عمارتوں کا جائزہ لیں، اور اگر دیواروں یا چھتوں میں دراڑیں نمودار ہو رہی ہیں تو فوری طور پر ماہرین سے رجوع کریں، کیونکہ یہ تعمیراتی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے۔
مزید یہ کہ ماہرین نے زور دیا ہے کہ عمارتیں کم از کم 6 شدت کے زلزلے کو برداشت کرنے کے قابل ہونی چاہئیں تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
