کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے جیل سے قیدیوں کے فرار کو ایک سنگین واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈی آئی جی جیل، سپرنٹنڈنٹ جیل اور ان کے ماتحت افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی کی زیرصدارت محرم الحرام کے انتظامات کا جامع اجلاس، فول پروف سیکیورٹی، تجاوزات کے خاتمے اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی پر زور
نیوز کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے کمشنر کراچی اور ایڈیشنل آئی جی کراچی پر مشتمل دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔
شرجیل میمن نے قیدیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر اگر فرار ہونے والے قیدی خود کو رضاکارانہ طور پر قانون کے حوالے کرتے ہیں تو ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی، بصورت دیگر جیل توڑنے کے جرم میں سات سال قید کی سزا دی جائے گی۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پولیس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے 79 مفرور قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا، اور جیل میں ایف سی اہلکار بھی تعینات تھے۔ وزیر داخلہ سندھ نے بھی جیل کا ہنگامی دورہ کیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ دہشتگردی سے منسلک نہیں، بلکہ زلزلے کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال سے فائدہ اٹھایا گیا۔ انکوائری رپورٹ کے بغیر کسی کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں، والدین سے اپیل ہے کہ اپنے مفرور بچوں کو قانون کے حوالے کرنے میں پولیس سے تعاون کریں۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سندھ میں صحت کی سہولیات بہترین سطح پر ہیں، کراچی کے لیے متعدد میگا منصوبے جاری ہیں جن میں جام صادق پل اور ریڈ لائن بس منصوبہ شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جام صادق پل نومبر سے قبل مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے بجلی کی طویل بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 16، 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، اور کے الیکٹرک صارفین کو بل نہ دینے کی اجتماعی سزا دی جا رہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔
