کراچی سمیت سندھ بھر میں محکمہ اوقاف کی جانب سے دکانوں کی نیلامی کا عمل عام نہ ہو سکا۔ غریب اور دیرینہ کرایہ دار دکانداروں کی داد رسی کے لیے سینئر وکیل اور اسسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل سندھ، زاہد فاروق مزاری نے میدان عمل میں قدم رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نصف صدی سے زائد عرصے سے کرایہ ادا کرنے والے دکانداروں کو بیک جنبش قلم بے روزگار نہیں کیا جا سکتا۔
زاہد فاروق مزاری کی قیادت میں کراچی کی جامع مسجد شاداب، جامع مسجد نایاب اور دیگر اہم مساجد و درگاہوں کے دکانداروں نے جامع مسجد نایاب کے سامنے پرامن احتجاج کیا، جس میں پاکستان سنی تحریک کے رہنما بھی شامل تھے۔ اس دوران سندھ ہائی کورٹ کی لاڑکانہ ڈویژن بینچ نے 30 مئی 2025 کو جاری حکم کے تحت محکمہ اوقاف کی نیلامی کو معطل کر دیا۔
زاہد فاروق مزاری نے صدر پاکستان آصف علی زرداری، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ وہ نیلامی کے عمل کو فوری ختم کروائیں اور باہمی گفت و شنید سے مسئلہ حل کیا جائے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے بھی مدد کی درخواست کی۔
محکمہ اوقاف پر زور دیا گیا کہ وہ آمرانہ پالیسیوں کو ترک کرکے قانونی اور جمہوری طریقے سے مسئلہ حل کرے، کیونکہ کئی دہائیوں سے کرایہ دار دکانیں چلا رہے ہیں۔ اگر عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کی گئی تو توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جائے گا۔
پاکستان سنی تحریک کے رہنما فہیم الدین شیخ نے کہا کہ محکمہ اوقاف کی طاقت کے زور پر دکانیں خالی کروانا قانون کے منافی ہے اور یہ ظلم جمہوریت کے خلاف ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے بھی اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور دیرینہ تنازعہ کو مشاورت سے حل کریں۔

