سندھ اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی برائے انرجی کے اجلاس میں ارکان نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی کے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ان پر شکایات کا انبار لگا دیا۔ جماعت اسلامی کے محمد فاروق نے لوڈشیڈنگ شیڈول میں تبدیلی پر سوالات اٹھائے جبکہ مونس علوی نے دعویٰ کیا کہ گرمی کی شدت میں 45 ڈگری پر لوڈشیڈنگ نہیں کی جاتی۔ اس پر ارکان نے سخت اعتراض کیا کہ کراچی میں 45 ڈگری درجہ حرارت کب ہوا؟
اجلاس میں حیسکو چیف کی غیر حاضری پر شدید احتجاج ہوا اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا۔ سندھ اسمبلی کی انرجی کمیٹی کے تمام ارکان نے انرجی کمپنیوں کے رویے کو ہتک آمیز قرار دیا۔ اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ الیکٹرک کمپنیاں وعدے پورے کرنے میں ناکام ہیں اور ارکان کے ساتھ غیر سنجیدہ رویہ عوام کے ساتھ کیسا ہوگا؟
اجلاس کے اختتام پر کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی نے صحافیوں کو بتایا کہ ملٹی ایئر ٹیرف سے عام صارف متاثر نہیں ہوگا اور پورے ملک میں یکساں ٹیرف پالیسی نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجکاری کے بعد کے الیکٹرک کے نقصانات 20 فیصد تک کم ہو گئے ہیں اور 2030 تک کراچی کو لوڈشیڈنگ سے مکمل آزاد کیا جائے گا۔
