کراچی: کمشنر کراچی سید حسن نقوی کی ہدایت پر شہر بھر میں قائم متعدد غیر قانونی مویشی منڈیوں کے خلاف ضلعی انتظامیہ، پولیس اور بلدیاتی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کئی منڈیاں ختم کر دیں۔
بی ایل اے دہشتگردوں کی آپسی آڈیو لیک، دہلی کے اشاروں پر لاشیں گرانے اور بھتہ خوری کا انکشاف
کارروائی کے دوران کئی افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد کے خلاف ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں۔ سب سے بڑی کارروائی سہراب گوٹھ میں کی گئی جبکہ پیپلز چورنگی، گرومندر، یونیورسٹی روڈ، گلبرگ کیفے پیالہ، قلندریہ چوک اور نارتھ ناظم آباد کے مختلف علاقوں میں بھی غیر قانونی منڈیوں کو ہٹایا گیا۔
اس کامیاب آپریشن پر شہریوں نے کمشنر کراچی کا شکریہ ادا کیا، اور ٹریفک جام کے مسئلے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ کمشنر نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ وہ اس مسئلے پر مسلسل الرٹ رہیں، اور خود بھی شہر کے ہنگامی دورے کریں گے۔
دوسری جانب، کمشنر کراچی کی زیر صدارت شاہراہ بھٹو ملیر ایکسپریس وے پر شجرکاری سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری جنگلات نجم الدین سہتو، ڈپٹی کمشنر کورنگی مسعود احمد بھٹو، کاٹی کے صدر جنید تقی، اور دیگر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شاہراہ پر ابتدائی مرحلے میں 5 کلومیٹر شجر کاری کا آغاز کیا جائے گا۔
کاٹی کے نمائندوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی، جبکہ کمشنر کراچی نے ڈی سی کورنگی کو شاہراہ بھٹو ملیر کے معاملات کے لیے فوکل پرسن نامزد کیا۔ علاوہ ازیں، تاجر رہنما زبیر چھایا اور مسعود نقی نے کمشنر سے ملاقات کر کے کاروباری برادری کے مسائل سے آگاہ کیا۔
