مستقبل کی جنگ کشمیر تک محدود نہیں رہے گی جوہری خطرہ موجود رہا جنرل ساحر شمشاد کا انٹرویو

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ساحر شمشاد مرزا نے برطانوی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ مستقبل میں اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو وہ صرف کشمیر کے متنازعہ علاقے تک محدود نہیں رہے گی۔ انہوں نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی کو "جارحانہ کشیدگی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ کشیدگی بین الاقوامی سرحد تک پہنچ گئی تھی، جو کہ ایک خطرناک صورت حال تھی۔
ایران کے غلام رضا قاسمیان رہا سعودی عرب میں تنقیدی ویڈیو کے بعد گرفتاری پر تہران کا شدید ردِ عمل

جنرل ساحر شمشاد کا کہنا تھا کہ ماضی میں تنازعات عموماً لائن آف کنٹرول تک محدود رہتے تھے، لیکن اس بار کشیدگی ایک نیا رخ اختیار کر گئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران جوہری ہتھیاروں کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، لیکن حالات میں سنگینی ضرور موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران کے دوران "کرائسز منیجمنٹ میکنزم” مکمل طور پر غائب تھا، جب کہ دوسری جانب سے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کیے جا رہے تھے، جس کی وجہ سے عالمی برادری کے لیے وقت پر مداخلت مشکل ہو گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتیں متحرک ہوئیں تو سہی، مگر اس وقت تک خاصا نقصان ہو چکا تھا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو بغیر کسی تحقیق کے صرف 24 گھنٹے میں معطل کیے جانے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، کیونکہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے بقاء کا مسئلہ ہے۔

One thought on “مستقبل کی جنگ کشمیر تک محدود نہیں رہے گی جوہری خطرہ موجود رہا جنرل ساحر شمشاد کا انٹرویو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!