پی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی مذہبی اسکالر غلام رضا قاسمیان کو رہا کر دیا گیا ہے، جنہیں سعودی عرب میں ایک تنقیدی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔ ایرانی خبر رساں ادارے "ایسنا” نے اس رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قاسمیان ایرانی حکام کی نگرانی میں وطن واپس آ رہے ہیں۔
اے این ایف کا ملک گیر کریک ڈاؤن تعلیمی اداروں کے قریب اور مختلف شہروں سے کروڑوں کی منشیات برآمد 4 اسمگلر گرفتار
قاسمیان کی گرفتاری ایک ویڈیو کی بنیاد پر ہوئی تھی جس میں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے حالیہ برسوں میں کی گئی سماجی اصلاحات پر بالواسطہ تنقید کی تھی۔ اگرچہ سعودی حکام نے ان کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، مگر تہران نے اس عمل پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔
ایرانی حکام نے کہا کہ گرفتاری کے بعد غلام رضا قاسمیان سے قونصلر سطح پر ملاقاتیں کی گئیں۔ ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر نے ان کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قاسمیان کی رائے ان کی ذاتی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے ریاست کا کوئی تعلق نہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں کہا:
"ہم کسی بھی ایسی کوشش کی شدید مذمت کرتے ہیں جو خاص طور پر حج جیسے روحانی ماحول میں مسلم اتحاد کو نقصان پہنچائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پُرعزم ہے کہ کسی کو بھی ایران اور سعودی عرب کے درمیان 2023 میں بحال ہونے والے تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب ایران اور سعودی عرب بیجنگ کی ثالثی سے بحال ہونے والے تعلقات کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور ایسے واقعات دونوں ممالک کے مابین حساسیت کو اجاگر کرتے ہیں۔
