آرٹس کونسل کراچی میں خالد حمیدی کے شعری مجموعے "سوچ” کی باوقار تقریب رونمائی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ممتاز شاعر خالد حمیدی کے شعری مجموعے "سوچ” کی تقریب رونمائی حسینہ معین ہال میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔ صدارت کے فرائض معروف ادبی شخصیت پروفیسر سحر انصاری نے انجام دیے جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر ڈاکٹر فاطمہ حسن نے شرکت کی۔

پاکستان کا کرپٹو انقلاب: پہلا سرکاری بٹ کوائن ریزرو، قومی والٹ اور ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کا اعلان

تقریب میں عنبرین حسیب عنبر، ڈاکٹر مختار حیات، زاہد حسین جوہری، شکیل خان اور شعیب ناصر نے خالد حمیدی کی شاعری پر مدلل اظہار خیال کیا۔ ڈاکٹر فاطمہ حسن نے ’’سوچ کے زاویے‘‘ کے عنوان سے مقالہ پیش کیا جس میں خالد حمیدی کی فکری بصیرت اور سماجی شعور کو سراہا۔

پروفیسر سحر انصاری نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ یہ شعری مجموعہ دورِ حاضر کی بے حسی، لاتعلقی اور فکری زوال کے خلاف ایک بلند آواز ہے۔ خالد حمیدی کا یہ مصرعہ ’’چار سو جو ہوتا ہے دیکھنا نہیں کافی، سوچنا بھی لازم ہے بولنا بھی لازم ہے‘‘ ان کے شعور کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

عنبرین حسیب عنبر نے کہا کہ خالد حمیدی نوجوان نسل کی تربیت کے ساتھ ساتھ زبان و فکر کے رشتے کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔ ان کی شاعری انسان کو بیداری اور عملی شعور کی دعوت دیتی ہے۔

زاہد حسین جوہری نے کہا کہ خالد حمیدی نے ذاتی مہاجرت کے تجربے کو اقدار کی ہجرت میں بدل کر پیش کیا۔ وہ ماضی سے جڑے رہ کر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔

ڈاکٹر مختار حیات نے ان کے انکسار، سنجیدگی اور نظریاتی وابستگی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ شعیب ناصر نے کہا کہ آج کی تقریب میں خالد حمیدی کی روح ہم سب کی موجودگی سے یقیناً خوش ہوئی ہوگی۔

تقریب کے آخر میں آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن شکیل خان نے تمام مقررین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام دیے۔

One thought on “آرٹس کونسل کراچی میں خالد حمیدی کے شعری مجموعے "سوچ” کی باوقار تقریب رونمائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!