اسلام آباد / ویگاس: پاکستان نے کرپٹو معیشت میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے پہلے سرکاری حمایت یافتہ اسٹریٹجک بٹ کوائن ریزرو اور قومی بٹ کوائن والٹ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین و کرپٹو اور پاکستان کرپٹو کونسل (PCC) کے سی ای او بلال بن ثاقب نے بٹ کوائن ویگاس 2025 کے دوران کیا۔
بھارتی پروپیگنڈے کا توڑ: بلاول بھٹو کی قیادت میں پاکستانی وفد 2 جون کو امریکا روانہ ہوگا
ذرائع کے مطابق، بلال بن ثاقب نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا اور ان کی جانب سے بھارت پاکستان کشیدگی میں امن کے قیام اور کرپٹو کو اپنانے کی کوششوں کو سراہا۔ اس تقریب میں امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، ایرک ٹرمپ اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر بھی شریک تھے۔
بلال بن ثاقب نے اعلان کیا کہ پاکستان کا قومی بٹ کوائن والٹ ایسے ڈیجیٹل اثاثے محفوظ رکھے گا جو ریاست کی تحویل میں ہیں، اور ساتھ ہی ملک میں موجود 40 ملین کرپٹو والٹس کی موجودگی کو پاکستان کی فری لانس اور ڈیجیٹل معیشت کے لیے سنگِ میل قرار دیا۔
حکومت نے پہلے مرحلے میں 2,000 میگاواٹ بجلی صرف بٹ کوائن مائننگ اور اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے مختص کر دی ہے، جس سے نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں اور بلاک چین فرمز کے لیے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔
اسی تقریب میں پاکستان ڈیجیٹل اثاثہ جات اتھارٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا، جو بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام کو ریگولیٹ کرے گی اور شفاف ڈیجیٹل معیشت کی بنیاد رکھے گی۔
