کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او سمیت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کے خلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او اسد اللہ خان اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر کنٹریکٹ تقرریوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ عدالت نے دونوں افسران کی تعیناتی کے خلاف درخواست پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے فیصلہ چند دنوں میں سنانے کا اعلان کیا ہے۔
گلشن سہیل سوسائٹی میں تجاوزات کے خلاف مکانات کی مسماری اور گرفتاریوں پر عدالت میں سماعت حکم امتناعی میں توسیع

عدالت نے سندھ حکومت کے رویئے پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ حکومت سندھ عدالتوں کا احترام نہیں کرتی۔ جسٹس عمر سیال نے واضح کیا کہ چار ماہ قبل حکومت نے خود کہا تھا کہ واٹر کارپوریشن خود مختار ادارہ ہے، مگر عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود سندھ حکومت نے افسران کی حمایت کے لیے وکلاء پیش کیے۔

عدالت نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد سندھ حکومت کے رویے میں واضح فرق آیا ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو صلاح الدین کو ہٹا دیا گیا اور عدالت کے حکم امتناعی کے بعد سی ای او اسد اللہ خان کو ہٹا کر ڈپٹی کمشنر احمد علی صدیقی کو ایڈیشنل چارج دیا گیا ہے۔ انہوں نے درخواست گزار کے اعتراضات کو غیر موثر قرار دیا۔

درخواست گزار کے وکیل خواجہ شمس الاسلام نے عدالت میں بتایا کہ اسد اللہ خان 2022 میں ریٹائر ہوئے تھے مگر ستمبر میں دوبارہ تعینات کر دیے گئے، انہیں متعدد عہدوں کے اختیارات دیے گئے اور اس کے بعد گریڈ 19 کے من پسند ڈپٹی کمشنر کو سی ای او لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ کی آبادی والے شہر کو ایڈہاک بنیادوں پر چلایا جا رہا ہے اور پانی کی فراہمی مفلوج ہے۔

وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ واٹر کارپوریشن کے ذریعے پانی کی لائنیں بار بار پھٹتی ہیں اور شہر میں پائپ تو بچھائے گئے ہیں لیکن پانی نہیں مل رہا، حتیٰ کہ جس پائپ میں پانی ہوتا ہے اسے توڑ دیا جاتا ہے۔

عدالت نے اس تمام صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے سماعت کا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

64 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی واٹر کارپوریشن میں سی ای او سمیت اعلیٰ عہدوں پر تقرریوں کے خلاف درخواست پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!