انسپکٹر جنرل سندھ پولیس غلام نبی میمن نے لاڑکانہ ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پولیس نے کچے کے چار اضلاع میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک 88 ڈاکو ہلاک اور 160 زخمی حالت میں گرفتار کیے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 450 سے زائد ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا جا چکا ہے۔
بولٹن مارکیٹ کے تاجروں کا کسٹم حکام کیخلاف شدید احتجاج ایم اے جناح روڈ بند ٹریفک جام
آئی جی سندھ نے بتایا کہ جب مارچ میں انہوں نے عہدہ سنبھالا، اس وقت 35 افراد اغوا تھے، تاہم مؤثر اقدامات کے نتیجے میں مغویوں کی تعداد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس دن رات کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف متحرک ہے، اور ان کارروائیوں کے ردعمل میں ڈاکوؤں کی جانب سے جوابی حملے بھی کیے جاتے ہیں، لیکن پولیس ہر حملے کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے۔
آئی جی سندھ نے مزید بتایا کہ پولیس نے کچے کے آپریشن کے لیے 4.3 ارب روپے کے جدید ہتھیار خریدے ہیں تاکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائیاں کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام ایس ایس پیز ایک جیسے نہیں ہوتے، کچھ بہتر کام بھی کر رہے ہیں۔ کچے کے علاقوں میں ایس پی کی تعیناتی انتہائی سنجیدگی اور اہلیت کو مدِنظر رکھ کر کی جانی چاہیے۔
صدف حاصلو کیس کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جو موثر طریقے سے کام کر رہی ہے اور اس کو تمام تر وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔
آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ سندھ کی ہائی ویز کو محفوظ بنانے کے لیے ہائی وے پیٹرولنگ یونٹس قائم کیے جا رہے ہیں، اور انہیں ضروری وسائل بھی مہیا کیے جا رہے ہیں۔
