طالبان کمانڈر کا سخت انتباہ پاکستان میں حملے جہاد نہیں ریاستی حکم کے خلاف کارروائی فساد ہے

افغان طالبان کے کمانڈر سعیداللہ سعید نے پولیس اہلکاروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کرنے والے عناصر کو سخت تنبیہ جاری کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ امیر کے حکم کے خلاف کسی بھی ملک خصوصاً پاکستان میں کارروائی کرنا ناجائز ہے۔
میسی اور سواریز کی نئی شراکت ڈیپورٹیوو ایل ایس ایم کے ساتھ یوراگوئے فٹبال میں نئی شروعات

جہاد صرف امیر کا اختیار:

کمانڈر سعید کے مطابق:

"جہاد کا اعلان یا اس کی اجازت دینا صرف ریاستی امیر کا اختیار ہے۔ کوئی بھی فرد یا گروہ اپنی مرضی سے جہاد کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔”

انہوں نے کہا کہ افغان امارت اگر پاکستان نہ جانے کا حکم دے چکی ہے تو اس کے باوجود جانا دینی نافرمانی کے مترادف ہے۔

جعلی مجاہدین پر تنقید:

کمانڈر سعید نے ان گروہوں پر سخت تنقید کی جو جہاد کے نام پر ملکوں کے درمیان حملے کرتے ہیں:

"ایسے افراد کو مجاہد کہنا غلط ہے۔ یہ شریعت اور امارت دونوں کی نافرمانی کرتے ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا:

"اپنی انا یا گروہی وابستگی کی بنیاد پر کیا گیا جہاد فساد کے زمرے میں آتا ہے، نہ کہ شریعت کے مطابق جہاد۔”

پس منظر:

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے وابستہ گروہوں کی جانب سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کئی بار افغان حکومت سے ان حملہ آور گروہوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر چکا ہے۔

اہم پیغام:

کمانڈر سعید اللہ کا یہ بیان افغان طالبان کے اندر سے ایک اہم پالیسی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ریاستی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تناؤ کو کم کرنا ہے۔

کلیدی نکات:

جہاد کا اختیار صرف ریاستی امیر کو حاصل ہے۔

بیرون ملک حملے کرنے والے گروہ شریعت کے نافرمان ہیں۔

پاکستان جانا اگر ممنوع قرار دیا گیا ہے تو اس کی خلاف ورزی فساد ہے۔

انفرادی یا گروہی فیصلے جہاد نہیں کہلا سکتے۔

One thought on “طالبان کمانڈر کا سخت انتباہ پاکستان میں حملے جہاد نہیں ریاستی حکم کے خلاف کارروائی فساد ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!