بھارت کی مجرمانہ لاپرواہی ایک بڑے ماحولیاتی سانحے کی صورت میں سامنے آ گئی ہے۔ بحرِ عرب میں زہریلے کیمیکلز اور تیل سے بھرا جہاز ڈوب گیا ہے جس سے نہ صرف آبی حیات بلکہ انسانی زندگیوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
یومِ تکبیر: پاکستان کی ایٹمی طاقت بننے کے 27 سال مکمل، قوم کا سر فخر سے بلند
ماحولیاتی ماہرین نے اس حادثے کو بھارتی حکومت کی سنگین مجرمانہ غفلت قرار دیا ہے۔ جہاز پر موجود 640 کنٹینرز میں سے 13 کنٹینرز میں انتہائی زہریلے کیمیکل موجود تھے، جب کہ جہاز میں 84 ٹن ڈیزل اور 367 ٹن فرنس آئل بھی شامل تھا، جو بحرِ عرب میں پھیل چکا ہے۔
کیرالا کے ساحلوں پر آلودگی کے آثار واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں جبکہ نااہل مودی سرکار اور بھارتی نیوی تاحال خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس سانحے سے بھارت کا ماحول دشمن چہرہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔
جہاز ڈوبنے کے بعد کوئی مؤثر ریسکیو یا ماحولیاتی تحفظ کا منصوبہ سامنے نہیں آیا، جس سے حکومتی غفلت مزید نمایاں ہو گئی ہے۔ کیرالا کے شہریوں اور سمندری حیات کی بقا شدید خطرے میں ہے، اور عالمی سطح پر بھارت کی ماحولیاتی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
