سندھ حکومت کے فنڈز پر غلط فہمیاں دور، دیگر صوبوں میں خدمات صرف وفاقی فنڈز سے – سعید غنی

کراچی: وزیر بلدیات سندھ سعید غنی اور وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ نے سندھ کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ حکومت پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لیے مکانات اور ایس آئی یو ٹی کے منصوبے اپنے نہیں بلکہ وفاقی فنڈز سے مکمل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ سندھ حکومت اپنے بجٹ سے دیگر صوبوں میں کام کروا رہی ہے۔

پاکستان میں فیلڈ مارشل کے اعزاز کی تاریخ، ایک جائزہ

انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت صرف وفاق کی درخواست پر ان منصوبوں میں خدمات فراہم کر رہی ہے، اور یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ سندھ کے اداروں پر دیگر صوبے بھی اعتماد کرتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ رحیم یار خان اور گجر خان میں ادیب رضوی کی زیرنگرانی ایس آئی یو ٹی کے دو اسپتال قائم کیے جا رہے ہیں جن کی مجموعی لاگت 9 ارب روپے ہے، جو وفاقی حکومت فراہم کرے گی۔

اسی طرح خیبر پختونخوا میں 2200 اور بلوچستان میں 4500 مکانات سیلاب متاثرین کے لیے تعمیر کیے جائیں گے، جن کی مالی معاونت بھی وفاق کرے گا، جبکہ سندھ حکومت صرف اپنے ادارے پیپلز ہاؤسنگ فار فلڈ افیکٹڈ کے ذریعے خدمات فراہم کرے گی۔

سعید غنی نے مزید بتایا کہ سندھ کابینہ نے ٹریفک قوانین کی بہتری، لائسنس کے بغیر موٹر سائیکل چلانے والے 33 لاکھ افراد اور غیر رجسٹرڈ رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے سخت اقدامات اور قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کالے شیشوں، جعلی سرکاری نمبر پلیٹس اور فینسی نمبر پلیٹس پر بھی سخت کارروائی ہوگی، اور اگر خلاف ورزی سرکاری گاڑی سے ہوئی تو جرمانہ دوگنا ہوگا۔

مزید برآں، کراچی میں علامہ رشید ترابی روڈ اور کریم آباد انڈر پاس پر کام تیز کر دیا گیا ہے، جس کے لیے سندھ کابینہ نے بالترتیب 532 ملین اور 1 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی ہے۔

اجلاس میں سیپرا ایکٹ، شیمراک رولز، موٹر وہیکل رولز 1969، اور دیگر اہم ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ سندھ فارنزک لیب کے ڈی جی اور ایڈیشنل ڈی جی کی تقرری کا اختیار وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ کو دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، 88 ایکڑ زمین شاہراہ بھٹو کے قریب خصوصی افراد کے لیے مختص کی گئی ہے۔

سعید غنی نے میڈیا سے گزارش کی کہ وہ بغیر تصدیق کے تنقید نہ کرے، بلکہ مکمل معلومات کے بعد ہی خبریں جاری کرے۔

دوسری طرف مکیش کمار چاولہ نے کہا کہ انفراسٹرکچر سیس کا مسئلہ آئندہ ہفتے تک حل کر لیا جائے گا اور ای چالان نظام جلد لاگو کیا جائے گا۔ گاڑی کی ملکیت پر ہی جرمانہ لاگو ہوگا اور ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں نہ گاڑی ٹرانسفر ہوگی اور نہ ہی رجسٹریشن برقرار رہے گی۔

نشہ آور اشیاء اور ویپ کے خلاف بھی سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے، خصوصاً تعلیمی اداروں میں منشیات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے والدین پر مشتمل کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں اور رینڈم ٹیسٹنگ کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

13 / 100 SEO Score

One thought on “سندھ حکومت کے فنڈز پر غلط فہمیاں دور، دیگر صوبوں میں خدمات صرف وفاقی فنڈز سے – سعید غنی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!