وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آج جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی، جنرل عاصم منیر بطور آرمی چیف اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
یہ فیصلہ جنرل عاصم منیر کی شاندار عسکری قیادت، جرات اور بہادری کے اعتراف میں کیا گیا، جس کی تجویز وزیراعظم شہباز شریف نے پیش کی، جنرل عاصم منیر پاکستان آرمی کے دوسرے افسر ہیں جنہیں اس اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
پاکستان آرمی کا فیلڈ مارشل کا عہدہ، جو پانچ ستاروں کے اعزازی رینک کے طور پر جانا جاتا ہے، اس سے قبل یہ اعزاز ایوب خان کو حاصل ہوا تھا۔
یہ اعزاز 1965 میں اس وقت کے فوجی حکمران جنرل ایوب خان کو دیا گیا جب وہ پاکستان کے صدر بھی تھے۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ پاکستان میں سب سے بلند فوجی رینک ہے، جو جنرل اور ایئر چیف مارشل سے بھی بلند ہے، اس اعزاز کو صرف جنگی میدان میں بڑی فتح حاصل کرنے یا غیر معمولی عسکری خدمات کے اعتراف میں دیا جاتا ہے۔

پاکستان میں فیلڈ مارشل کا اعزاز 1965 میں اس وقت کے صدر اور فوجی حکمران جنرل ایوب خان کو دیا گیا۔ ایوب خان کے علاوہ کسی دوسرے افسر کو یہ اعزاز نہیں دیا گیا۔ اس وقت یہ رینک ایک علامتی اہمیت کا حامل تھا، لیکن اس کے بعد اس رینک کو مختصراً استعمال کیا گیا اور اس کا کوئی باقاعدہ نفاذ نہ ہوا۔
اگرچہ فیلڈ مارشل کو اضافی طاقتیں یا عہدے نہیں ملتے، لیکن یہ رینک کسی فوجی افسر کے لیے ایک اہم علامت بن سکتا ہے۔
2016 میں پاکستان کے وزیراعظم نے جنرل راحیل شریف کو پانچ ستاروں والے فیلڈ مارشل کا اعزاز دینے کی تجویز پیش کی تھی، لیکن یہ تجویز اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر مسترد کر دی گئی تھی، جس کے بعد اس موضوع پر مزید پیشرفت نہیں ہوئی۔
پاکستان میں فیلڈ مارشل کا تقرر وزیراعظم کی درخواست پر کیا جاتا ہے، جس کے بعد صدر، وزارت دفاع اور سپریم کورٹ کے ساتھ مشاورت کی جاتی ہے تاکہ آئینی طور پر اس تقرر کی منظوری حاصل کی جا سکے۔ فیلڈ مارشل کا عہدہ بنیادی طور پر ایک اعزازی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے ساتھ اضافی اختیارات نہیں جڑے ہوتے۔
