سپریم کورٹ نے تاحیات نااہلی ختم کردی

تشکُّر نیوز رپورٹنگ،

عدالت عظمیٰ نے جمعہ کو سماعت مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاحیات نااہلی کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا۔ عدالت عظمیٰ نے تاحیات نااہلی کالعدم قرار دیدی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے 7 رکنی بینچ نے تاحیات نااہلی کیس کی سماعت کی، جس میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل تھیں۔

تاحیات نااہلی کے معاملہ پر عدالتی فیصلے اور الیکشن ایکٹ کی ترمیم میں تضاد پر نوٹس

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جمعہ کو سماعت مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیس میں 25 سے زائد وکلاء اور معاونین نے دلائل دیئے تھے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ براہ راست سنایا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کو کالعدم قرار دیدیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کی آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی نہیں ہوگی۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کے تحت نااہلی کی مدت 5 سال تک ہے، نااہلی کی مدت کا قانون کو جانچنے کی ضرورت نہیں، 62 ون ایف کی تشریح عدالتی ڈیکلریشن کے ذریعے آئین کو ریڈ ان کرنا ہے، ڈیکلریشن دینے کے حوالے سے قانون کا کوئی پراسس موجود نہیں۔

منافق کافر سے زیادہ خطرناک ، آمروں نے صادق و امین کی شرط اپنے لیے کیوں نہ رکھی ؟، چیف جسٹس

جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے سے اختلاف کیا، سپریم کورٹ نے 6 ایک کے تناسب سے فیصلہ سنایا۔

نااہلی کی مدت سے متعلق کیس، ’’ اگر یہ تمام شرائط پہلے ہوتیں تو قائد اعظم بھی نااہل ہو جاتے ‘‘ ، چیف جسٹس

جسٹس یحییٰ آفریدی نے  فیصلے سے اختلاف کیا اور کہا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی تاحیات بھی نہیں ہے، نااہلی عدالتی فیصلہ موجود ہونے تک ہے، سمیع اللہ بلوچ فیصلہ درست تھا۔

تاحیات نااہلی کے قانون میں ترمیم  کیخلاف سماعت کا تحریری حکم جاری

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور آئی پی پی کے سربراہ جہانگیر خان ترین انتخابات کیلئے اہل قرار دیدیا۔

عدالت عظمیٰ کی ہدایت پر قومی اخبارات میں اشتہار بھی شائع 

چیف جسٹس پاکستان کے کیسز کے دوران ریمارکس

پورا پاکستان 5 سال نااہلی کے مدت کے قانون سے خوش ہے۔

پانچ جینٹلمین کی دانش 326 کی پارلیمان پر کیسے غالب آسکتی ہے، پارلیمنٹ کے فیصلے کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے، آئین میں کہاں لکھا ہے کہ نااہلی کی سزا تاحیات ہوگی۔

ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ جب موڈ میں ہوں تو تاحیات نااہل کردیں اور جب موڈ نہ ہو تو نااہلی ختم کر دیں۔

پارلیمنٹ نے مدت نہیں لکھی تو نااہلی تاحیات کیوں؟، تاحیات نااہل کرنا اسلام کیخلاف ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے تھے کہ  منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے، سوال اٹھایا کہ آمروں نے صادق و امین کی شرط اپنے لیے کیوں نہ رکھی؟، اگر قانون سازوں نے کوئی خلاء چھوڑا ہے تو  اسے کیسے پُر کیا جائے گا؟ 8 فروری کو الیکشن ہورہے ہیں کوئی کنفیوژن نہ پھیلائی جائے، کوشش ہے کہ تاحیات نااہلی کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!