جنگ اور محبت میں سب کچھ جائز کہا جاتا ہے، مگر میرے نزدیک ان کے بھی کچھ اصول و ضوابط اور حدیں ہونی چاہئیں۔ جب بھارتی جارحیت کے دوران ہماری مسلح افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کیے، تو پاکستانی میڈیا نے بھی ڈیجیٹل محاذ پر ایک سپاہی کا کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک واجبات کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ ناقابل قبول ہے، وزیر بلدیات سعید غنی
پاکستان کے تمام نیوز چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل جنگ لڑی گئی۔ اس کے برعکس بھارتی میڈیا نے نہایت شرمناک انداز میں فیک نیوز اور پروپیگنڈے کا سہارا لیا۔ بھارتی چینلز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کے چھ شہروں اور اسلام آباد پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ کراچی کی بندرگاہ تباہ کرنے اور ملتان میں سمندر کی موجودگی جیسی لغو خبریں بھی چلائی گئیں۔
یہ سب مودی سرکار کے اشارے پر بھارتی عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش تھی۔ بھارتی میڈیا نے اپنے ہی جعلی آپریشن "سندور” کو فیک نیوز کا تندور بنا دیا۔ ان جھوٹی خبروں نے بھارت کو بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندہ کیا۔ کئی چینلز نے بعد میں معافی مانگی، اور چند صحافیوں نے تو خود بھارتی میڈیا کی مذمت کی۔
اس سب کے برعکس پاکستانی میڈیا نے نہ صرف بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کیا بلکہ سچائی کی روشنی پھیلائی۔ لائیو کوریج کے ذریعے بھارتی پروپیگنڈے کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ نیوز رومز میں جوش و ولولہ دیدنی تھا۔ جب دشمن کا طیارہ گرتا، یا کسی بھارتی فوجی تنصیب پر میزائل حملے کی خبر آتی، نیوز رومز میں "پاکستان زندہ باد” کی گونج سنائی دیتی۔
پاک فوج، آرمی چیف اور وزیرِاعظم نے بھی پاکستانی میڈیا کی حب الوطنی، بہادری اور پیشہ ورانہ کوریج کو سراہا اور کہا کہ میڈیا پاکستان کا فخر ہے۔ یہ الفاظ ان میڈیا کارکنوں کے لیے ہمیشہ ایک اعزاز رہیں گے۔
پاکستانی میڈیا نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ جنگیں فیک نیوز یا پروپیگنڈے سے نہیں بلکہ قوم کے جذبے، اتحاد اور سچائی سے جیتی جاتی ہیں۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہی نہیں، بلکہ معاشرے کا ترجمان بھی ہے، اور جمہوریت کی بقا کے لیے ایک آزاد میڈیا ناگزیر ہے۔
