کراچی (اسٹاف رپورٹر) — وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے سندھ اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ باقاعدگی سے کے الیکٹرک کو واجبات کی ادائیگی کر رہی ہے اور ہمارا کوئی ادارہ یا عمارت دیفالٹر نہیں، اس کے باوجود کے الیکٹرک کی جانب سے غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ جاری ہے۔
نئی دہلی: آپریشن بنیان مرصوص میں ناکامی پر ریٹائرڈ فوجی افسران کا مودی حکومت پر شدید تنقید
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کا مؤقف ہے کہ جو ادارے اور صارفین بروقت ادائیگی کرتے ہیں، کے الیکٹرک ان کو بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنائے۔ سعید غنی کا کہنا تھا کہ لیاری میں سیوریج نظام مکمل طور پر پمپنگ اسٹیشنز پر منحصر ہے، مگر 12 سے 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باعث یہ نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
سعید غنی نے بتایا کہ سندھ حکومت نے پمپنگ اسٹیشنز کے لیے جنریٹرز اور ڈیزل کی فراہمی یقینی بنائی ہے اور کے الیکٹرک کو اضافی فنڈز بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ ان اسٹیشنز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حب ڈیم سے نئی کینال کی تعمیر تیزی سے جاری ہے اور سال کے آخر تک پانی کی سپلائی میں بہتری آئے گی۔ علاوہ ازیں، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر "لیاری ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ” کا آغاز کیا جا رہا ہے، جسے آئندہ سالانہ ترقیاتی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے تحت لیاری میں پانی، سیوریج، سڑکوں، گلیوں اور پارکوں کی بہتری کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پی ایس-130 کے علاقے میں پانی کی فراہمی دو ذرائع سے کی جا رہی ہے—یونیورسٹی ریزروائر اور حب ڈیم۔ یونیورسٹی ریزروائر سے روزانہ تقریباً 18 گھنٹے پانی کی فراہمی ہو رہی ہے، جبکہ حب ڈیم سے ہر 15 دن بعد 56 گھنٹے کی شیڈول سپلائی فراہم کی جاتی ہے۔
سعید غنی نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت کے الیکٹرک کو مکمل بلز کی ادائیگی کر رہی ہے، اور کے الیکٹرک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائے۔
