کراچی: سٹی کونسل کے اجلاس میں اپوزیشن نے شہر میں پانی کی بدترین صورتحال اور کے فور منصوبے کی غیرمعمولی تاخیر پر شدید احتجاج کیا۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا تھا کہ "آج شہر میں پانی نہیں ہے اور میئر صاحب 2050 کا پلان بنا رہے ہیں۔” انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کے فور منصوبہ 20 ارب روپے سے بڑھ کر 200 ارب تک پہنچ گیا ہے، اور ایم ڈی واٹر کارپوریشن کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ اب 2027 میں مکمل ہوگا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبہ بندی کے تحت شہر میں پانی کی لائینیں پھاڑی جاتی ہیں، 84 انچ کی پائپ لائن 8 مہینے میں 6 مرتبہ پھٹ چکی ہے، جو سراسر ناقص کارکردگی کا ثبوت ہے۔
اپوزیشن ارکان کا کہنا تھا کہ "میئر کراچی ایک پیراشوٹر ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی (PPP) اس شہر اور ملک کے لیے ایک جُوں کی حیثیت رکھتی ہے۔”
انہوں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) پر بھی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ غیر قانونی مافیا کا سرپرست بن چکا ہے، اور شہر کے تمام ادارے مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
اپوزیشن کے مطابق، آج کے اجلاس کے ایجنڈے میں شہر کے مفاد میں ایک بھی نکات شامل نہیں، بلکہ ایجنڈے میں سرفہرست کے الیکٹرک کو 5000 ایکڑ زمین دینے کی منظوری شامل ہے۔
"پیپلز پارٹی آبی دہشتگردی کر رہی ہے، اور ایک منصوبے کے تحت شہر کا امن تباہ کیا جا رہا ہے،” اپوزیشن رہنماؤں کا الزام۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اب احتجاج کیا جائے گا، عوام کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں گے، اور "اب دمادم مست قلندر ہوگا، ہم سکوں سے نہیں بیٹھیں گے۔”
