قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے جا رہا ہے۔ ان کے مطابق خان یونس میں جاری ’خصوصی آپریشن‘ میں اسرائیلی فورسز کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان بجٹ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جاری، تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف پر غور
خان یونس سے جبری بے دخلی کا حکم
اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہر خان یونس اور اس سے ملحقہ علاقوں بنی سہیلا اور عبسان کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ یہ اعلان اسرائیلی فوج کے عربی ترجمان اویچائے ادرعی نے سوشل میڈیا پر کیا۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مغربی سمت میں واقع علاقے المواسی منتقل ہو جائیں کیونکہ خان یونس کو ’خطرناک جنگی زون‘ قرار دیا گیا ہے۔
محدود انسانی امداد کی بحالی
امریکی دباؤ کے تحت وزیراعظم نیتن یاہو نے غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی جزوی طور پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ میں فوجی حکام کی سفارش پر کیا گیا۔ فوجی حکام نے خبردار کیا تھا کہ اقوام متحدہ اور امدادی تنظیموں کے پاس خوراک ختم ہو چکی ہے اور سنگین انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔ وزرا میں اس فیصلے پر اختلاف رہا، تاہم کسی ووٹنگ کے بغیر امداد بحال کرنے کا فیصلہ منظور کر لیا گیا۔
160 سے زائد فضائی حملے
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس نے غزہ کے مختلف علاقوں پر 160 فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں مبینہ طور پر فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے اسلحہ کے ذخائر، راکٹ لانچر اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
فلسطینی کمانڈر کی شہادت
فلسطینی مزاحمتی تنظیم الناصر صلاح الدین بریگیڈز نے تصدیق کی ہے کہ ان کے کمانڈر احمد سرحان اسرائیلی فورسز کے حملے میں خان یونس میں شہید ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق سرحان کو ایک خفیہ کارروائی میں نشانہ بنایا گیا، جس کی فضائی نگرانی اسرائیلی ڈرونز اور جنگی طیارے کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کمانڈر کی بیوی اور بچے کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔
