کراچی (رپورٹ) – کراچی سٹی کورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی بے حسی اور ڈھٹائی نے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی اور وکلاء کو حیرت میں ڈال دیا۔ ایف آئی اے کے مقدمے میں گرفتار ملزم کو غیر قانونی کال سینٹر چلانے اور دیگر سائبر کرائمز میں ملوث ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔
صحافی جان محمد مہر کے قاتل کا انجام: سندھ کے وزیر داخلہ کی سندھ اسمبلی میں اہم پریس کانفرنس
سماعت کے دوران تفتیشی افسر امیر علی کھوسو نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے بتایا کہ ارمغان نے تفتیش کے دوران کئی شریک ملزمان کے نام افشا کیے ہیں جن کی تعداد پانچ سے زائد ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم سے حاصل کردہ ڈیجیٹل آئی ڈیز اور اکاؤنٹ تفصیلات کے تناظر میں مزید تفتیش ضروری ہے۔
تاہم، عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ ریمانڈ کی مزید ضرورت کیوں ہے، جس پر افسر وہی دلائل دہراتے رہے۔ عدالت نے ان دلائل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے ملزم کو جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا۔
دوران سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا: "پہلے تو بہت بولتے تھے، آج خاموش کیوں ہیں؟”۔ ارمغان نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا: "آپ نے جو کرنا ہے کر دیں”. عدالت کی جانب سے بار بار پوچھنے پر کہ ایف آئی اے کی جانب سے کوئی تشدد تو نہیں کیا گیا، ملزم مسلسل خاموش رہا۔
اس موقع پر خاتون وکیل شازیہ توقیر ایڈووکیٹ نے اعتراض اٹھایا کہ عدالت کے سوالات کا جواب نہ دینا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے، چاہے جواب اثبات میں ہو یا انکار میں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے: "آپ اس ملزم کو نہیں جانتیں، اس پر کیسز کا بنڈل موجود ہے۔”
عدالت نے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے جیل منتقل کرنے کا حکم دے دیا اور سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
