برطانیہ میں گزشتہ ہفتے ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی لیبر پارٹی کو عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا، جسے مبصرین نے غیر قانونی امیگریشن اور دیگر اہم مسائل پر عوام کی "سزا” قرار دیا ہے۔ اس سیاسی دباؤ کے بعد حکومت نے امیگریشن کے حوالے سے سخت اقدامات پر غور تیز کر دیا ہے۔
پاکستان کا پہلا طویل فاصلے تک مار کرنے والا زمینی نگرانی ریڈار AM3505 کامیابی سے تیار
برطانوی حکام کے مطابق، اگلے ہفتے ایک امیگریشن وائٹ پیپر شائع کیا جائے گا، جس میں خالص نقل مکانی (Net Migration) کو کم کرنے کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جون 2024 تک خالص نقل مکانی کی شرح 7 لاکھ 28 ہزار افراد تک جا پہنچی ہے، جو برطانوی عوام کے لیے باعث تشویش بن چکی ہے۔
وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ دستاویز "ہمارے ٹوٹے ہوئے امیگریشن سسٹم میں نظم و ضبط بحال کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے” پر مشتمل ہوگی۔ اس میں نہ صرف قانونی امیگریشن کے راستوں پر نظرثانی شامل ہوگی بلکہ سیاسی پناہ کے نظام کو بھی مزید سخت کیا جائے گا۔
امیگریشن گزشتہ کئی برسوں سے برطانوی سیاست میں مرکزی موضوع رہا ہے اور 2016 کا بریگزٹ ریفرنڈم بھی اسی بنیاد پر بڑی حد تک جیتا گیا تھا۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں 1 لاکھ 8 ہزار افراد نے برطانیہ میں سیاسی پناہ کی درخواست دی، جن میں سے 16 ہزار اسٹوڈنٹ ویزا پر ملک میں داخل ہوئے تھے۔
حکومت نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان، نائجیریا اور سری لنکا سے تعلق رکھنے والے افراد نے کام، تعلیم یا وزیٹر ویزے پر برطانیہ آ کر سیاسی پناہ کی درخواست دینے کے زیادہ امکانات ظاہر کیے ہیں۔
بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد پارٹی کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ، خاص طور پر ‘ریڈ وال’ حلقوں کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امیگریشن جیسے حساس مسائل پر مضبوط اور دوٹوک مؤقف اختیار کرے۔
ایک نمایاں قانون ساز کا کہنا تھا:
"اب وقت ہے کہ حکومت چکر کاٹنا بند کرے اور عوامی جذبات کے مطابق حقیقی اقدامات کرے۔”
آنے والا ہفتہ برطانیہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک اہم موڑ کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔
