کراچی: گزشتہ روز کراچی کے علاقے ملیر کالا بورڈ میں رینجرز چوکی کے قریب ہونے والے دستی بم حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) میں درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ سرکاری مدعیت میں ایکسپلوزو ایکٹ اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔
پاکستان کا زمین سے زمین پر مار کرنے والے “فتح” میزائل کا کامیاب تجربہ، بھارت کو واضح پیغام
مقدمے کے مطابق رات کے وقت گشت کے دوران زور دار دھماکے کی آواز آئی، تاہم دھماکے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ دھماکے کے پیچھے کسی کالعدم تنظیم کا ہاتھ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جنہوں نے خوف پھیلانے اور جانی نقصان پہنچانے کی نیت سے یہ حملہ کیا۔
مقدمے کے مطابق نامعلوم ملزمان نے کالا بورڈ رینجرز چوکی اور ریلوے پٹری کے درمیان دستی بم (کریکر) پھینکا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ دھماکے میں استعمال ہونے والا روسی ساختہ کریکر آرجی ڈی۔1 تھا، جس کے چھ ٹکڑے جائے وقوعہ سے برآمد ہوئے ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، اس دھماکے سے رینجرز چوکی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی کسی قسم کا جانی نقصان ہوا۔